Blog | Asif Hameed Shah
Even Cancer Survivors Can Be Broken from Within
کینسر سے جنگ جیتنے والے بھی اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں!
لوگ سمجھتے ہیں کہ کینسر کا علاج مکمل ہو گیا تو زندگی پہلے جیسی ہو جاتی ہے، چہرے پر مسکراہٹ واپس آ جاتی ہے اور ساری پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کینسر سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی ایک مریض بہت سی خاموش جنگیں لڑ رہا ہوتا ہے۔
کبھی جسم میں کمزوری ہوتی ہے، کبھی معمولی سی تکلیف خوفزدہ کر دیتی ہے، کبھی رپورٹ آنے سے پہلے دل گھبراتا ہے اور کبھی علاج کے وہ دن یاد آتے ہیں جب زندگی صرف دعاؤں اور امید کے سہارے گزرتی تھی۔
لوگ کہتے ہیں: الحمدللہ! آپ تو اب بالکل ٹھیک ہیں۔
لیکن کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنے خوف، کتنے آنسو اور کتنی ہمت چھپی ہوئی ہے۔
کینسر سے صحت یاب ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہے، لیکن صحت یابی کے بعد خود کو دوبارہ سنبھالنے میں بھی وقت لگ سکتا ہے۔ ہر مریض کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ کسی کو جسمانی طاقت واپس حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے، کسی کو ذہنی سکون حاصل کرنے میں۔ ایسے وقت میں گھر والوں کی محبت، اپنوں کا ساتھ اور ڈاکٹر کی مناسب رہنمائی بہت اہم ہوتی ہے۔
اگر آپ بھی کینسر سے صحت یاب ہو چکے ہیں تو یاد رکھیں، آپ کو ہر وقت بہادر بن کر دکھانے کی ضرورت نہیں۔ تھک جانا، ڈر جانا یا کبھی اداس ہو جانا آپ کی کمزوری نہیں۔ اپنے آپ کو وقت دیں، اپنی صحت کا خیال رکھیں اور اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر شکر ادا کریں۔
اللہ تعالیٰ ہر کینسر کے مریض کو مکمل شفاء، صحت یاب ہونے والوں کو دائمی صحت و سکون اور ہر پریشان دل کو اطمینان عطا فرمائے۔ آمین۔
جو بھی بھائی یا بہن اس موذی مرض سے گزر رہا ہے اور کہیں سے بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا، تو ایک بار میری دوا لے کر ضرور آزمائیں۔ اللہ تعالیٰ اسی ذریعے کو آپ کے لیے شفاء کا سبب بنا دے گا انشاء اللہ ۔ باقی شفاء تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، انسان صرف ایک ذریعہ بنتا ہے۔