Lung Cancer

کینسر آپ کو نہیں مارتا، آپ کو کینسر کا خوف مار دیتا ہے۔

1. خوف اور ذہنی دباؤ کا اثر

جب کسی کو کینسر کی تشخیص ہوتی ہے تو سب سے پہلے دماغ میں موت کا خوف آتا ہے۔
یہ خوف:

نیند اڑا دیتا ہے

بھوک ختم کر دیتا ہے

قوتِ مدافعت کم کر دیتا ہے

انسان کو مایوسی اور ڈپریشن میں ڈال دیتا ہے

یعنی جسمانی بیماری اپنی جگہ، لیکن ذہنی دباؤ بیماری کو اور تیز کر دیتا ہے۔

2. مثبت سوچ کی کمی

کینسر کے کئی مریض، خاص طور پر ابتدائی اسٹیج میں، علاج سے صحتیاب ہو جاتے ہیں۔
لیکن اگر مریض یہ سوچ لے کہ “اب میرا انجام قریب ہے” تو وہ علاج میں دلچسپی کم کر دیتا ہے، کھانے پینے اور صحت مند عادات کو چھوڑ دیتا ہے، اور یوں جسم کمزور ہوتا ہے۔

3. سوشل اور خاندانی اثرات

کبھی کبھار اردگرد کے لوگ بھی ڈرا دیتے ہیں:

“فلان کو بھی یہی تھا، وہ تو بچا نہیں”

“یہ بیماری کا کوئی علاج نہیں”
یہ جملے مریض کے حوصلے کو توڑ دیتے ہیں، اور وہ خود کو ختم شدہ سمجھنے لگتا ہے۔

4. حقیقت

کینسر ہر بار جان لیوا نہیں ہوتا، خاص طور پر اگر وقت پر پکڑا جائے۔

بہت سے لوگ علاج کے بعد لمبی، صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔

اصل چیلنج جسمانی بیماری کے ساتھ ساتھ خوف، ڈپریشن اور منفی سوچ کو شکست دینا ہے۔


نتیجہ:
بیماری سے لڑنے میں دو چیزیں ضروری ہیں:

1. علاج پر اعتماد

2. حوصلہ اور مثبت سوچ

اگر آپ خوف کو جیت لیں تو بیماری کے خلاف جیتنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *