Blog | Asif Hameed Shah
خیالات اور سوچ کے ذدیعے کینسر کو شکست دینا سیکھیے
کینسر جیسے موذی مرض سے لڑائی صرف جسمانی علاج تک
محدود نہیں ہوتی۔ دوائیاں، سرجری اور کیموتھراپی کے ساتھ ساتھ مریض کی سوچ، جذبات، امید اور ذہنی کیفیت بھی بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ مضبوط ذہن بیماری کے سفر کو بہت آسان بنا
دیتا ہے۔
. مثبت سوچ: علاج کا پہلا قدم
مثبت سوچ صرف خوش فہمی نہیں ہوتی بلکہ یہ دماغ کو ایسے ہارمون بنانے پر مجبور کرتی ہے جو جسم میں
طاقت، برداشت، قوتِ مدافعت اور ہمت بڑھاتے ہیں۔
جو مریض مثبت رہتے ہیں ان میں:
ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے
نیند بہتر ہوتی ہے
بھوک بہتر ہوتی ہے
علاج کے سائیڈ ایفیکٹس کم محسوس ہوتے ہیں
۔دماغ کا سکون جسم کو بہتر طریقے سے لڑنے دیتا ہے۔
ذہنی دباؤ کم کرنے کی تکنیکیں
ذہنی دباؤ (Stress) کینسر کے مریضوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ قوتِ مدافعت کو کم کرتا ہے۔
ذیل کی مشقیں دباؤ کم کرنے میں مدد کرتی ہیں:
✔ گہری سانسیں لینے کی مشق
روزانہ 5–10 منٹ آہستہ آہستہ سانس لینا دل و دماغ کو سکون دیتا ہے۔
مراقبہ (Meditation)
خاموش بیٹھ کر صرف سانس پر توجہ رکھیں۔ دماغ میں موجود منفی خیالات خود بخود کم ہونے لگتے ہیں۔
دعا اور روحانی سکون
مذہبی عبادات، دعا، تسبیح اور ذکر دل کو مضبوط بناتے ہیں اور امید پیدا کرتے ہیں۔
ہلکی ورزش
واک، ہلکی اسٹریچنگ یا یوگا ذہنی گھٹن ختم کرتی ہے۔
. خود کو مضبوط پیغام دینا (Positive Affirmations)
روزانہ آئینے میں خود کو کہیں:
“میں مضبوط ہوں۔”
“میں بیماری کو شکست دے سکتا ہوں۔”
“اللہ میرے ساتھ ہے۔”
“میرا جسم صحت یاب ہو رہا ہے۔”
یہ جملے دماغ کی کیمسٹری بدل دیتے ہیں اور خوف کم کرتے ہیں۔
منفی سوچ پر قابو پانا
کینسر کے مریضوں کو اکثر یہ خیالات آتے ہیں:
میں ٹھیک نہیں ہو سکوں گا
علاج بہت مشکل ہے
زندگی ختم ہو گئی ہے
یہ خیالات فطری ہیں لیکن ان پر قابو پانا ضروری ہے۔
منفی سوچ آئے تو خود سے کہیے:
“یہ صرف ایک خیال ہے، حقیقت نہیں۔ میں اس سے زیادہ مضبوط ہوں۔”
خود کو مثبت ماحول میں رکھیں
ایسے لوگوں سے بات کریں جو حوصلہ دیتے ہوں۔
سوشل میڈیا پر مایوس کن پوسٹوں سے دور رہیں۔
اپنے اردگرد ایسے لوگ رکھیں جو امید دلائیں، خوف نہیں۔
مثبت ماحول سوچ کو صحت مند رکھتا ہے۔
مقصد بنائیں — زندگی صرف بیماری نہیں
کینسر کے باوجود آپ کی زندگی رکتی نہیں۔ روزانہ کے لیے چھوٹے چھوٹے کام یا مقصد بنائیں:
آج 15 منٹ واک کرنی ہے
کسی دوست سے بات کرنی ہے
کوئی اچھی کتاب پڑھنی ہے
یہ چیزیں مریض کو “زندہ ہونے” کا احساس دیتی ہیں۔
ہنسنا بھی علاج ہے
ہنسنے سے جسم میں خوشی کے ہارمون بنتے ہیں، دماغ ہلکا ہوتا ہے اور درد بھی کم محسوس ہوتا ہے۔
کوئی مزاحیہ ویڈیو دیکھیں، یا ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو آپ کو ہنساتے ہیں۔
امید — سب سے طاقتور دوائی
کینسر سے لڑنے والے ہزاروں مریض صرف اس لیے ٹھیک ہوئے کیونکہ انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔
امید دل کو طاقت دیتی ہے اور جسم اس طاقت پر عمل کرتا ہے۔
خیالات اور سوچ بیماری کا متبادل علاج نہیں بلکہ اصل علاج کے ساتھ ایک طاقتور مددگار ہیں۔
مثبت ذہن اور مضبوط ارادہ کینسر کے مریضوں کو نہ صرف علاج میں کامیابی دلاتا ہے بلکہ زندگی کا معیار بھی بہتر بناتا ہے۔
جزاک اللہ خیر۔